مظفرگڑھ جتوئی بازار میں انسانیت شرما گئی، ایسا کیا ہوا کہ پورا علاقہ ہل کر رہ گیا؟

 






پچاس روپے کے سموسے اور مرتی ہوئی انسانیت:مظفرگڑھ کے علاقے جتوئی کے ایک چھوٹے سے بازار میں پیش آنے

والا یہ واقعہ صرف ایک بچے کی بے عزتی نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ ہے۔ ایک دس سالہ بچہ، جس کی کل کائنات شاید چند سکوں، کھیل کود اور معصوم خواہشوں تک محدود تھی، صرف پچاس روپے کے سموسے کھانے پر اس کی عزتِ نفس نوچ لی گئی۔ اس کے کپڑے اتار دیے گئے، اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ویڈیو بنائی گئی اور پھر برہنہ حالت میں سڑک پر بھگا دیا گیا۔ سوال یہ نہیں کہ اس بچے پر کیا گزری ہوگی، سوال یہ ہے کہ ہم پر کیا گزر رہی ہے؟ ہم کس سمت جا رہے ہیں؟

یہ واقعہ صرف ایک دکاندار کی درندگی نہیں، یہ پورے معاشرے کے ضمیر کی موت کی علامت ہے۔ ایک وقت تھا جب ہمارے دیہات اور قصبوں میں اگر کوئی بچہ بھوکا دکان پر آ جاتا تو دکاندار اسے عزت سے کھانا کھلاتا، سر پر ہاتھ پھیرتا اور کہتا: “بیٹا، جب پیسے ہوں دے دینا۔” آج وہی معاشرہ اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ پچاس روپے کی خاطر ایک معصوم بچے کی انسانیت تار تار کر دی جاتی ہے۔
سوچئے، وہ بچہ جب سڑک پر برہنہ دوڑا ہوگا تو اس کے ننھے دل پر کیا قیامت گزری ہوگی؟ کتنی نظریں اس کے جسم پر نہیں، اس کی روح پر لگی ہوں گی۔ کتنی آوازیں اس کا مذاق اڑا رہی ہوں گی۔ کتنی بار اس نے اپنے کانپتے ہاتھوں سے اپنے جسم کو ڈھانپنے کی کوشش کی ہوگی۔ شاید اس لمحے اس بچے کے دل میں انسانوں سے اعتماد ہمیشہ کے لیے مر گیا ہوگا۔
اور اس سے بھی زیادہ شرمناک پہلو یہ ہے کہ وہاں موجود لوگوں میں سے کسی نے آگے بڑھ کر اس بچے کو کپڑا نہیں دیا، کسی نے دکاندار کا ہاتھ نہیں روکا، کسی نے یہ نہیں کہا کہ “بس کرو، یہ بچہ ہے۔” گویا ہم سب تماشائی بن چکے ہیں۔ ظلم کرنے والا بھی بے حس، اور ظلم دیکھنے والا بھی بے حس۔
تاہم اس اندھیرے میں ایک مثبت پہلو بھی سامنے آیا۔ وہ تو بھلا ہو ڈی پی او مظفرگڑھ سید غضنفر علی شاہ کا، جنہوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوتے ہی فوری نوٹس لیا اور قانون کو حرکت میں لایا۔ اسی طرح ایس ایچ او تھانہ جتوئی حسنین رضا نے بھی فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا اور ملزم کو گرفتار کرلیا۔ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر قانون بروقت حرکت میں آئے تو مظلوم کو فوری انصاف کی امید مل سکتی ہے۔ شہریوں اور سماجی حلقوں کی جانب سے مظفرگڑھ پولیس کے اس فوری اور مؤثر اقدام کو سراہا بھی جا رہا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ صرف گرفتاری کافی ہے؟ کیا ایک معصوم بچے کی تذلیل کا زخم اتنی آسانی سے بھر جائے گا؟ قانون ملزم کو سزا بھی دے

Post a Comment

0 Comments