“انمول پنکی” بھی پیچھے رہ گئی؟ ریٹائرڈ ایس پی نے عدلیہ کی مبینہ کالی بھیڑ سے پردہ اٹھا دیا!

 





انمول پنکی تو کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔!!سندھ پولیس کے ریٹائرڈ ایس پی نے عدلیہ کی ایک کالی بھیڑ کو بے نقاب کردیا ۔۔۔ چند روز قبل گرفتار ہونیوالے برطرف سول جج کے کرتوت آپ کو دنگ کر ڈالیں گے ۔۔۔۔سابق ایس پی نیاز احمد کھوسہ کی ایک پکی رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔زاہد حسین مغیزی کراچی کے کسی علاقہ میں میجسٹریٹ تعینات تھے ۔ ایک سول جج کے زوال کی کہانی چند ماہ شروع ہوئی جب گلستان جوہر کراچی میں ایک شہری کو ناکے پر پولیس والوں نے روکا ،بے گناہ مگر موٹی آسامی ہونے کی وجہ سے شہری کو ہرا۔ساں کیا گیا اور تگڑی رقم نکلوانے کے لیے اسے اے ٹی ایم پر لے جا کر پیسے بٹورے گئے ، شہری نے لٹنے کے بعد مقامی پولیس کو شکایت کی ۔ شہری کی شکایت پر افسران بالا نے کارروائی کی ، متعلقہ تھانہ کے ناکے پر موجود تمام تھانیداروں اور اہلکاروں کو ہتھکڑی لگا کر اسی تھانے میں بند کردیا گیا ۔۔۔۔ یہاں انٹری ہوتی ہے مجسٹریٹ زاہد حسین مغیزی کی وہ ریکارڈ ٹائم یعنی چند منٹوں میں تھانے پہنچے اور اپنے عہدے کے بل بوتے پر افسران پولیس کو جھاڑ پلا کر گرفتار شدہ اہلکاروں کو خود حوالات سے آزاد کردیا اور بعد میں  خود بھی چلے گئے ۔۔۔ تھانے کے عملہ نے افسران بالا کو حالات بتائے  تو آئی جی سندھ کے حکم پر ایلکاروں کو دوبارہ گرفتار کیا گیا مگر افسوس صبح جب انہیں مجسٹریٹ کے روبرو جسمانی ریمانڈ کے لیے پیش کیا گیا تو  یہ سول جج زاہد حسین مغیری نکلے جنہوں نے اپنا اختیار استعمال کرکے ملزمان کو بری کردیا ۔۔۔ اب سندھ پولیس کے اعلیٰ افسروں نے ایک اور چال چلی  چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو جج کے مس کنڈکٹ پر شکایت کی گئی جنہوں نے ایک نیک نام جج کو انکوائری افسر مقرر کیا ۔۔ انکوائری میں ثابت ہو گیا کہ جج صاحب نے ملزمان کی پشت پناہی کی ہے ۔ نتیجہ کے طور پر نہ صرف ملزمان دوبارہ گرفتار ہوئے بلکہ 21 اپریل 2026 کو  زاہد حسین مغیری کو عہدے سے برطرف کرکے گھر بھیج دیا گیا اور مزید کارروائی کا  اعلان بھی ہوا ۔۔ مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی ، برطرف جج صاحب کے پول مزید کھلنا باقی تھے ۔۔۔ کچھ روز پہلے ٹنڈواللہ یار میں ایک ناکے پر پولیس نے موٹرسائیکل سوار دو اشخاص کو روکا اور تلاشی لی تو انکے قبضے سے بڑی مقدار میں من۔ شیات برآمد ہوئی ، پولیس ملزمان کو تھانے لے گئی اور انکی خاطر تواضع کی اور پھر پوچھا کہ من۔ شیات کہاں سے خریدی تو ملزمان نے کراچی کے ایک زاہد نامی ڈر۔گ ڈیلر کا نام لیا جس سے وہ پچھلے کئی ماہ سے بھاری مقدار میں من ۔شیات خرید رہے تھے اور یہ جہاں کہا جاتا خود من ۔شیات دے کر جاتا تھا ۔۔ پولیس نے ملزمان کو آمادہ کیا کہ وہ اس ڈیلر کو من۔ شیات کا ایک بڑا آرڈر دے کر ٹنڈواللہ یار بلائیں ۔۔ پھر ایسا ہی ہوا ملزمان نے فون کیا اور زاہد نامی یہ ڈیلر من ۔شیات لے کر کراچی سے ٹنڈو اللہ یار پہنچ گیا ۔۔۔ ڈیلر کو نمبر اور ٹریکر کے ذریعے دیکھا جارہا تھا جونہی اسکی سفید گاڑی ٹنڈو اللہ یار میں داخل ہوئی ایک ناکے پر پولیس والوں نے اسے روک لیا اور اس سے شناختی دستاویزات طلب کی تو زاہد نے کارڈ لہراتے ہوئے انکشاف کیا سول جج گلستان جوہر زاہد حسین مغیری ۔۔۔ پولیس والے چونک گئے لیکن مخبری پکی تھی گاڑی بھی وہی تھی رنگ  اورنمبر بھی وہی  جو کہ ڈیلر نے بتایا تھا ۔ گاڑی کی تلاشی لی گئی تو آرڈر کردہ من۔ شیات برآمد ہو گئی ، جب سندھ کے متعقلہ دفاتر سے جج صاحب کا کارڈ واٹس ایپ پر بھیج کر وضاحت طلب کی گئی تو تصدیق ہوگئی کہ یہ  ہیں تو جج صاحب لیکن پچھلے ماہ نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔ اب ایک عام ملزم کی طرح انہیں ڈیل کیا جائے ۔۔ چنانچہ پولیس نے ہمت دکھائی ۔ آئی جی آفس سے بھی شاباش آئی اور صاف ہدایت ملی کہ اب اس بدعنوان اور بدکردار  سابق سول جج کو ہر صورت کیفرکردار تک پہنچایا جائے ۔ اب زاہد حسین مغیری  کی باقاعدہ گرفتاری ڈال کر عدالت پیش کیا جا چکا ہے اور یہ غالبا جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے پاس ہیں ۔۔ دیکھتے ہیں اس اسکینڈل میں مزید کیا انکشافات ہوتے ہیں ۔۔۔ ایک بات طے ہے کہ سندھ بھی اب تبدیلی کے سفر پر گامزن ہو گیا ہے ۔۔۔۔ 


Post a Comment

0 Comments