وہ شخص جس کے پورے لاہور میں ہزاروں دوست تھے ، ناحق کیوں مارا گیا ، ایک ہنستے بستے خاندان کی تباہی کی سچی کہانی : تصویر میں نظر آنیوالا نوجوان ایک پان شاپ کا مالک تھا ، اسکی دکان شہر کے بارونق بازار میں تھی ۔ کئی لڑکے یہاں کام کرتے تھے ، نوجوان بڑا خوش اخلاق ، ہنس مکھ ، یاروں کا یار اور زندہ دل آدمی تھا ، چند ماہ پہلے شام کا وقت تھا اس روز نیو ائیر نائٹ تھی ، بازار میں اور انکی دکان پر بہت رش تھا ، ایک شخص نے گاڑی انکی دکان کے سامنے روکی تو ٹریفک میں خلل پیدا ہو گیا دکان کے لڑکوں نے اس شخص کو گاڑی ہٹانے کو کہا تو اس نے انکار کردیا ، جب کچھ راہ گیروں نے نے اسے سختی سے گاڑی ہٹانے کو کہا تو اس نے گاڑی کے ڈیش بورڈ سے پستو۔ل نکال لیا ۔ یہ دیکھ کر نوجوان مالک دکان فوری باہر آیا اور درمیان میں آگیا کہ بھائی جان پستو۔ل نکالنے والی اس میں کیا بات ہے ۔ یوں اس نے معاملہ رفع دفع کروا دیا ، گاڑی والا اور اسے ہٹانے کا کہنے والا دونوں چلے گئے ۔ لیکن تھوڑی دیر بعد کئی مسل۔ح غنڈہ ٹائپ لوگ وہاں آگئے اور کہا کس کی جرات ہوئی ہمارے مہمان کے ساتھ بدتمیزی کرنے کی ۔۔ کدھر ہے وہ بندہ جس نے ہمارے مہمان کے ساتھ جھگڑا کیا۔۔۔ اس نیک دل انسان نے پھر ان لوگوں کی منت سماجت کی اور انہی واپس بھیجا ۔۔۔ لیکن رات کے تین بجے جب یہ شخص اپنے گھر موجود تھا کچھ لوگ اسکے گھر آگئے اور وہ بندہ دینے کو کہا جس نے انکے مہمان کے ساتھ بدتمیزی کی تھی ۔ اصل میں یہ سب لوگ شرا۔ب کے نشا میں دھت تھے اور انہیں بات بھول نہیں رہی تھی ، جونہی پان شاپ مالک نوجوان اپنے گھر سے نکلا اسے گو۔لیاں مار کر ڈھیر کردیا گیا ۔۔۔۔۔ بعد میں کچھ لوگ پکڑے بھی گئے ، شاید ان کو سزا بھی ہو جائے لیکن ایک ہنستا بستا گھر اجڑ گیا ، ایک پیارا سا آدمی بے گناہ ہونے کے باوجود زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا ۔۔۔ اس کا ذمہ دار کون ہے ؟؟ شرا۔ب ، نیو ائیر کے ہنگامے یا پھر ہماری جہالت ؟؟

0 Comments