ایران کا اہم امریکی ریڈار سسٹم تباہ، خلیجی دفاعی نظام کو بڑا دھچکا
جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایران نے ایک ایسے ریڈار سسٹم کو تباہ کر دیا جو خلیج میں امریکی میزائل دفاعی نظام کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا تھا۔ اس ریڈار کے تباہ ہونے سے فضائی نگرانی کے نظام میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ جدید AN/TPY-2 ریڈار سسٹم اردن کے موافق السلتی ایئر بیس پر نصب تھا اور یہ امریکہ کے THAAD (ٹرمینل ہائی الٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس) نظام کا حصہ تھا۔ یہ سسٹم دور سے آنے والے بیلسٹک میزائلوں کو ٹریک کرنے اور دفاعی نظام کو بروقت الرٹ دینے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
ماہرین کے مطابق اگر واقعی یہ ریڈار ایرانی حملے میں تباہ ہوا ہے تو یہ جنگ کے دوران ایران کی اب تک کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک تصور کی جا سکتی ہے۔ اس حملے کے بعد خطے میں بلند فضائی نگرانی کی صلاحیت عارضی طور پر متاثر ہوئی ہے۔
تاہم دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی فوج اور اس کے اتحادیوں کے پاس دیگر ریڈار سسٹمز بھی موجود ہیں جو فضائی اور میزائل دفاعی نگرانی جاری رکھ سکتے ہیں، اس لیے ایک ریڈار کی تباہی سے پورا دفاعی نظام مکمل طور پر متاثر نہیں ہوگا۔
سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں اس بیس پر موجود ریڈار اور اس سے متعلقہ آلات کو شدید نقصان پہنچا۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے اردن میں دو حملے کیے تھے، ایک 28 فروری اور دوسرا 3 مارچ کو۔ ابتدا میں ان حملوں کو روکنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، تاہم بعد میں ریڈار کی تباہی کی تصدیق نے صورتحال کو ایک اہم فوجی پیش رفت بنا دیا ہے۔

0 Comments